یکم محرم کو واقعۂ کربلا میں کیا ہوا؟ کوفہ کہاں تک پہنچ چکا تھا؟
یکم محرم الحرام اسلامی سال کا آغاز ہے، لیکن سن 61 ہجری میں یہی دن امتِ مسلمہ کی تاریخ کے نہایت اہم اور غمناک ایام میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت تک حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ امام حسینؓ کا قافلہ مکہ مکرمہ سے عراق کی جانب سفر کر رہا تھا، جبکہ کوفہ میں حالات یکسر تبدیل ہو چکے تھے۔
پس منظر
حضرت امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے خلافت سنبھالی۔ اس نے مختلف علاقوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ اہم شخصیات سے اس کی بیعت لی جائے۔
امام حسینؓ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار فرمایا، کیونکہ آپ کے نزدیک خلافت کا مقصد دین کی حفاظت، عدل اور حق کا قیام تھا، جبکہ یزید کی حکومت ان اصولوں پر پوری نہیں اترتی تھی۔
اسی وجہ سے امام حسینؓ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔
کوفہ والوں کے خطوط
جب کوفہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ امام حسینؓ نے یزید کی بیعت نہیں کی تو انہوں نے مسلسل خطوط لکھنا شروع کیے۔
تاریخی روایات کے مطابق:
- ہزاروں خطوط امام حسینؓ کو بھیجے گئے۔
- ان خطوط میں وعدہ کیا گیا کہ اگر آپ کوفہ آئیں تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔
- بعض روایات میں تقریباً 12 ہزار جبکہ بعض میں 18 ہزار یا اس سے زیادہ خطوط کا ذکر ملتا ہے۔
ان خطوط میں لکھا جاتا تھا:
"ہمارا کوئی امام نہیں، آپ تشریف لائیے، ہم آپ کی بیعت کریں گے۔"
حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجنا
امام حسینؓ نے صورتحال معلوم کرنے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔
ابتدا میں کوفہ کے ہزاروں لوگوں نے حضرت مسلمؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
اس خبر سے امام حسینؓ کو یقین ہوا کہ شاید کوفہ کے لوگ اپنے وعدے پر قائم رہیں گے۔
کوفہ میں حالات بدل گئے
یزید نے کوفہ کے گورنر کو تبدیل کر دیا۔
اس نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ بھیجا، جس نے وہاں پہنچ کر:
- سختیاں شروع کیں۔
- لوگوں کو دھمکیاں دیں۔
- قبائلی سرداروں پر دباؤ ڈالا۔
- امام حسینؓ کے حامیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔
- بہت سے لوگوں کو قید کیا۔
- کچھ کو قتل کر دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ پہلے حضرت مسلمؓ کے ساتھ تھے، وہ خوف کی وجہ سے آہستہ آہستہ الگ ہوتے گئے۔
حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت
آخرکار حضرت مسلم بن عقیلؓ کو گرفتار کر لیا گیا۔
9 ذوالحجہ 60 ہجری (یوم عرفہ) کو انہیں شہید کر دیا گیا۔
یہ خبر امام حسینؓ تک فوراً نہیں پہنچ سکی، کیونکہ اس زمانے میں پیغام رسانی کا کوئی تیز ذریعہ موجود نہیں تھا۔
امام حسینؓ کا مکہ سے روانہ ہونا
امام حسینؓ نے 8 ذوالحجہ 60 ہجری کو، جب لوگ حج کی تیاری کر رہے تھے، مکہ سے عراق کی طرف روانگی اختیار کی۔
آپ نے حج کو عمرہ میں تبدیل کیا تاکہ حرم میں خونریزی نہ ہو۔
آپ کے ساتھ:
- اہلِ بیتؓ
- خواتین
- بچے
- اہلِ خانہ
- چند وفادار ساتھی
شامل تھے۔
یکم محرم 61 ہجری تک قافلہ کہاں پہنچا تھا؟
یکم محرم 61 ہجری تک امام حسینؓ کا قافلہ عراق کی سرزمین کی طرف مسلسل سفر کر رہا تھا۔
تاریخی روایات کے مطابق اس وقت:
- قافلہ ابھی کربلا نہیں پہنچا تھا۔
- راستے میں مختلف مقامات پر قیام کیا جا رہا تھا۔
- بعض افراد راستے میں شامل ہوتے رہے۔
- کچھ لوگ حالات کی سنگینی دیکھ کر واپس بھی چلے گئے۔
اسی دوران مختلف راستوں سے خبریں ملنا شروع ہو گئیں کہ کوفہ کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔
کیا امام حسینؓ کو حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر مل گئی تھی؟
جی ہاں، سفر کے دوران مختلف مقامات پر امام حسینؓ کو معلوم ہوا کہ:
- حضرت مسلم بن عقیلؓ شہید ہو چکے ہیں۔
- ہانی بن عروہؓ بھی شہید کر دیے گئے۔
- کوفہ پر عبید اللہ بن زیاد کا مکمل کنٹرول ہو چکا ہے۔
یہ خبر سن کر امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ حالات بدل چکے ہیں، جو واپس جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔
بعض افراد واپس چلے گئے جبکہ اہلِ بیتؓ اور وفادار ساتھی امام حسینؓ کے ساتھ رہے۔
کوفہ اس وقت کس کے قبضے میں تھا؟
یکم محرم تک:
- کوفہ پر عبید اللہ بن زیاد کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔
- شہر میں فوجی پہرہ سخت تھا۔
- امام حسینؓ کے حامیوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا۔
- لوگوں میں شدید خوف پیدا ہو چکا تھا۔
- بیشتر افراد کھل کر امام حسینؓ کی مدد کرنے سے قاصر تھے۔
کربلا ابھی باقی تھی
یکم محرم کو:
❌ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔
❌ ابھی پانی بند نہیں کیا گیا تھا۔
❌ ابھی عاشورہ نہیں آیا تھا۔
بلکہ یہ وہ مرحلہ تھا جب:
- امام حسینؓ سفر میں تھے۔
- کوفہ مکمل طور پر یزیدی حکومت کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔
- حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت ہو چکی تھی۔
- آگے آنے والے دنوں میں تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک باب رقم ہونا تھا۔
خلاصہ
یکم محرم 61 ہجری کے اہم واقعات:
- اسلامی نئے سال کا آغاز۔
- امام حسینؓ کا قافلہ عراق کی جانب سفر میں تھا۔
- حضرت مسلم بن عقیلؓ پہلے ہی شہید ہو چکے تھے۔
- کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے مکمل کنٹرول میں تھا۔
- کوفہ والوں کی اکثریت خوف کی وجہ سے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ چکی تھی۔
- امام حسینؓ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو چکا تھا، لیکن آپ نے حق اور انصاف کے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا فیصلہ کیا۔