7 محرم 61 ہجری – واقعۂ کربلا کا ساتواں دن
پس منظر
2 محرم کو امام حسینؑ کا قافلہ کربلا پہنچا۔ اس کے بعد روز بروز یزیدی فوج میں اضافہ ہوتا گیا اور محاصرہ سخت ہوتا گیا۔ 6 محرم تک امام حسینؑ اور ان کے ساتھی مکمل طور پر گھیرے جا چکے تھے، لیکن ابھی پانی تک رسائی مکمل طور پر نہیں روکی گئی تھی۔
7 محرم 61 ہجری وہ دن ہے جب کربلا کے واقعات نے ایک نہایت دردناک رخ اختیار کیا۔
عبید اللہ بن زیاد کا سخت حکم
کوفہ میں موجود گورنر عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو ایک سخت حکم بھیجا۔
اس حکم میں کہا گیا کہ
امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کو دریائے فرات سے پانی لینے نہ دیا جائے، جیسے حضرت عثمانؓ کے محاصرے کے دوران ان پر پانی روکے جانے کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔
عمر بن سعد نے اس حکم پر عمل درآمد شروع کر دیا۔
فرات پر پہرہ
عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج الزبیدی کو تقریباً 500 سواروں کے ساتھ دریائے فرات پر تعینات کیا۔
ان کی ذمہ داری تھی کہ:
امام حسینؑ کے خیموں تک پانی نہ پہنچنے دیں۔
کسی کو دریا سے پانی لینے کی اجازت نہ دیں۔
ہر آنے جانے والے شخص پر نظر رکھیں۔
یہ واقعۂ کربلا کا ایک نہایت اہم موڑ تھا۔
خیموں میں پانی کی کمی
7 محرم تک خیموں میں موجود پانی ختم ہونے لگا۔
خیموں میں موجود تھے:
امام حسینؑ ، حضرت عباسؑ ، اہلِ بیتؑ ، خواتین ، بچے، بزرگ اور وفادار اصحابؓ
سب کو شدید گرمی اور پیاس کا سامنا کرنا پڑا
حضرت عباسؑ کی ذمہ داری
حضرت عباسؑ، جو لشکر کے علمبردار تھے، مسلسل کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح پانی کا انتظام کیا جا سکے
بعض تاریخی روایات کے مطابق اسی دوران یا بعد کے ایام میں انہوں نے چند ساتھیوں کے ساتھ پانی لانے کی کوشش کی۔ تاہم مختلف مصادر ان واقعات کی تاریخ مختلف بیان کرتے ہیں، اس لیے انہیں کسی ایک دن کے ساتھ قطعی طور پر منسلک کرنا درست نہیں۔
امام حسینؑ کا صبر
پانی بند ہونے کے باوجود امام حسینؑ نے
صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن جاری رکھی۔
اپنے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کی تلقین کی۔
آپؑ نے فرمایا کہ آزمائش میں بھی حق کا راستہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔
بچوں کی پیاس
7 محرم کے بعد خیموں میں موجود بچوں کی پیاس بڑھنے لگی
تاریخی روایات میں آتا ہے کہ:
بچے پانی مانگتے تھے۔
خواتین انہیں تسلی دیتی تھیں۔
پانی کی شدید قلت نے ہر خیمے کو متاثر کیا۔
یہ منظر اہلِ بیتؑ کے لیے نہایت کٹھن آزمائش تھا۔
عمر بن سعد کی کیفیت
بعض تاریخی روایات کے مطابق عمر بن سعد جانتا تھا کہ امام حسینؑ جنگ شروع نہیں کرنا چاہتے، لیکن وہ عبید اللہ بن زیاد کے احکامات کا پابند تھا۔
اسی لیے اس نے پانی بند کرنے کے حکم پر بھی عمل کیا، اگرچہ بعد کے بعض مؤرخین نے اس کی اندرونی کشمکش کا بھی ذکر کیا ہے۔
یزیدی لشکر کی تعداد
7 محرم تک یزیدی لشکر کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی تھی۔
مختلف تاریخی کتب میں اس تعداد کے بارے میں اختلاف ہے:
بعض نے 4 ہزار لکھا، بعض نے 10 ہزار، جبکہ بعض روایات میں اس سے بھی زیادہ تعداد بیان ہوئی ہے۔ اس لیے کسی ایک عدد کو قطعی قرار دینا درست نہیں، لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ امام حسینؑ کے قافلے کے مقابلے میں یزیدی لشکر بہت بڑا تھا۔
امام حسینؑ کے ساتھیوں کا حوصلہ
شدید پیاس اور محاصرے کے باوجود امام حسینؑ کے اصحابؓ نے:
وفاداری کا عہد نبھایا۔ کسی نے بھی امام حسینؑ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔سب نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ یہی وفاداری واقعۂ کربلا کی سب سے روشن مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔
7 محرم کی تاریخی اہمیت
7 محرم وہ دن ہے جب: دریائے فرات کا پانی اہلِ بیتؑ پر بند کر دیا گیا۔
کربلا کی آزمائش انتہائی سخت مرحلے میں داخل ہوئی۔
خواتین اور بچوں کو بھی پیاس کا سامنا کرنا پڑا۔
ظلم اور حق کے درمیان فرق مزید نمایاں ہو گیا۔
خلاصہ
7 محرم 61 ہجری کے اہم واقعات:
عبید اللہ بن زیاد نے پانی بند کرنے کا حکم دیا۔ عمر بن سعد نے حکم پر عمل کیا۔ عمرو بن حجاج کو فرات پر تعینات کیا گیا۔ امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کے لیے پانی کی رسائی روک دی گئی۔
خیموں میں شدید پیاس شروع ہوئی۔ حضرت عباسؑ پانی کے انتظام کی کوششوں میں مصروف رہے۔ امام حسینؑ اور اصحابؓ نے صبر، عبادت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
