Action Button

Total Pageviews

( پانچ ) 5 محرم 61 ہجری: یزیدی لشکر کی مزید آمد اور کربلا کا سخت ہوتا ہوا محاصرہ

۔  5 محرم 61 ہجری - واقعہ کربلا کا پانچواں دن

پس منظر


4 محرم 61 ہجری تک امام حسینؓ کا قافلہ میدانِ کربلا میں قیام پذیر تھا، جبکہ عمر بن سعد اپنی فوج کے ساتھ وہاں پہنچ چکا تھا۔ دونوں جانب کی صورتِ حال نہایت حساس ہو چکی تھی۔ اگرچہ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی، لیکن حالات تیزی سے تصادم کی طرف بڑھ رہے تھے۔


کربلا میں یزیدی لشکر کی تعداد میں اضافہ


محرم کو عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ سے مزید فوجی دستوں کو کربلا روانہ کرنا شروع کیا۔ 


تاریخی روایات کے مطابق:


مختلف قبائل کے افراد کو زبردستی فوج میں شامل کیا گیا۔

بعض لوگوں نے خوف کی وجہ سے لشکر میں شمولیت اختیار کی۔

کچھ افراد دنیاوی لالچ اور حکومتی انعامات کی امید میں آئے۔

ہر آنے والے دستے کے ساتھ امام حسینؓ کا محاصرہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔


مؤرخین کے مطابق لشکر کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، اس لیے کوئی ایک حتمی عدد بیان کرنا درست نہیں۔ تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ فوج کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی۔


عبید اللہ بن زیاد کی نئی ہدایات


کوفہ میں بیٹھے عبید اللہ بن زیاد مسلسل عمر بن سعد کو پیغامات بھیج رہا تھا۔


اس کی ہدایات میں شامل تھا:


امام حسینؓ پر دباؤ برقرار رکھا جائے۔

کسی بھی شخص کو ان کی مدد کے لیے آنے نہ دیا جائے۔

خیموں پر مسلسل نگرانی رکھی جائے۔

کسی بھی قسم کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔


یہ احکامات اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ حکومت مذاکرات کے بجائے طاقت کے ذریعے معاملہ حل کرنا چاہتی تھی۔


امام حسینؓ کا صبر اور ثابت قدمی


دوسری طرف امام حسینؓ اپنے اہلِ بیتؓ اور ساتھیوں کے ساتھ نہایت سکون اور صبر کے ساتھ موجود تھے۔


آپ مسلسل:


عبادت کرتے،

قرآن مجید کی تلاوت فرماتے،

اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتے،

اور انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرماتے تھے۔


امام حسینؓ نے اس دوران کسی قسم کی جنگی کارروائی کا آغاز نہیں کیا۔


مذاکرات کی امید باقی تھی


اگرچہ حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے، لیکن 5 محرم تک مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا۔


عمر بن سعد نے بعض مواقع پر کوفہ پیغام بھیجا کہ شاید کسی ایسے حل پر اتفاق ہو جائے جس سے خونریزی نہ ہو۔


لیکن عبید اللہ بن زیاد کا مؤقف پہلے سے زیادہ سخت ہو چکا تھا۔


اہلِ بیتؓ کے لیے بڑھتی ہوئی آزمائش


کربلا کا میدان گرم، خشک اور کھلا ریگستان تھا۔


خیموں میں:


خواتین موجود تھیں،

بچے موجود تھے،

بزرگ افراد موجود تھے،

اور امام حسینؓ کے جاں نثار ساتھی موجود تھے۔


ہر گزرتا دن ان کے لیے ایک نئی آزمائش لے کر آ رہا تھا۔


پانی کی صورتحال


5 محرم کو ابھی دریائے فرات تک رسائی مکمل طور پر بند نہیں کی گئی تھی۔


البتہ:


یزیدی فوج نے فرات کے اطراف اپنی موجودگی بڑھانا شروع کر دی تھی۔

نگرانی سخت ہوتی جا رہی تھی۔

یہ واضح تھا کہ دشمن امام حسینؓ پر مزید دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔


تاریخی طور پر مکمل پابندی 7 محرم کو عائد کی گئی، اس لیے 5 محرم کے واقعات کو اسی ترتیب سے سمجھنا چاہیے۔


کوفہ کے عوام کی خاموشی


جن لوگوں نے پہلے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی، ان میں سے اکثر اب خاموش تھے۔


اس کی وجوہات میں شامل تھیں:


عبید اللہ بن زیاد کی سخت پالیسیاں،

گرفتاریوں کا خوف،

قبائلی سرداروں پر دباؤ،

اور حکومتی طاقت۔


اس کے باوجود بعض مخلص افراد موقع ملنے پر خفیہ طور پر امام حسینؓ تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔


تاریخی اہمیت


5 محرم 61 ہجری کی اہمیت یہ ہے کہ:


کربلا کا محاصرہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا۔

یزیدی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔

مذاکرات کی امید کمزور پڑنے لگی۔

عبید اللہ بن زیاد نے مزید سخت احکامات جاری کیے۔

آنے والے دنوں کے المناک واقعات کی بنیاد مزید مضبوط ہو گئی۔

[Object]

Writer at ict vip signal. Sharing knowledge and insights on various topics.