چھ محرم
کو واقعۂ کربلا کے سلسلے میں ایک بہت اہم دن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس دن حالات مزید سخت ہونا شروع ہو گئے تھے اور امام حسینؑ اور ان کے ساتھ موجود اہلِ بیت و اصحاب پر فوجِ یزید کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔ ذیل میں اس دن کے اہم واقعات آسان اور ترتیب وار انداز میں بیان کیے جا رہے ہیں:
امام حسینؑ کے ساتھ کتنے لوگ تھے؟
معتبر تاریخی روایات کے مطابق:
تقریباً 72 شہداء عاشورہ کے دن شہید ہوئے۔ کربلا میں موجود افراد کی کل تعداد اس سے زیادہ تھی کیونکہ خواتین اور بچے بھی موجود تھے۔
بعض مؤرخین کے مطابق کربلا میں تقریباً 100 سے 145 افراد موجود تھے، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ اس لیے صرف "72 افراد" کہنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا؛ یہ تعداد عام طور پر شہداء کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
| نام | رشتہ | کربلا میں موجود؟ | شہادت |
|---|---|---|---|
| حضرت قاسم بن حسنؑ | بھتیجے | ✅ | ✅ |
| حضرت عبداللہ بن حسنؑ | بھتیجے | ✅ | ✅ |
| حضرت ابوبکر بن حسنؑ | بھتیجے | ✅ | ✅ |
| حضرت حسن مثنیٰؑ | بھتیجے | ✅ | ❌ (زخمی ہوئے، زندہ رہے) |
حضرت علیؑ کے کون کون سے بیٹے کربلا میں تھے؟
نام والدہ امام حسینؑ سے رشتہ انجام امام حسینؑ حضرت فاطمہؓ خود امام شہید حضرت عباسؑ حضرت ام البنینؓ سوتیلے بھائی شہید حضرت عبداللہ بن علیؑ حضرت ام البنینؓ سوتیلے بھائی شہید حضرت جعفر بن علیؑ حضرت ام البنینؓ سوتیلے بھائی شہید حضرت عثمان بن علیؑ حضرت ام البنینؓ سوتیلے بھائی شہید امام زین العابدینؑ (علی بن الحسینؑ) شہربانو (روایات میں اختلاف ہے) صاحبزادے زندہ رہے
| نام | والدہ | امام حسینؑ سے رشتہ | انجام |
|---|---|---|---|
| امام حسینؑ | حضرت فاطمہؓ | خود امام | شہید |
| حضرت عباسؑ | حضرت ام البنینؓ | سوتیلے بھائی | شہید |
| حضرت عبداللہ بن علیؑ | حضرت ام البنینؓ | سوتیلے بھائی | شہید |
| حضرت جعفر بن علیؑ | حضرت ام البنینؓ | سوتیلے بھائی | شہید |
| حضرت عثمان بن علیؑ | حضرت ام البنینؓ | سوتیلے بھائی | شہید |
| امام زین العابدینؑ (علی بن الحسینؑ) | شہربانو (روایات میں اختلاف ہے) | صاحبزادے | زندہ رہے |
۔ 6 محرم کو کربلا میں کیا ہوا
یزیدی لشکر کی سخت نگرانی
کربلا میں 6 محرم تک امام حسینؑ کے خیموں کے اردگرد یزیدی فوج نے مکمل گھیراؤ سخت کر دیا تھا۔ پانی کی بندش پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، اور اس دن نگرانی مزید بڑھا دی گئی تاکہ کوئی بھی شخص خیموں سے باہر نہ جا سکے۔
پانی کی شدید قلت
اہلِ بیت اور اصحاب کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے تکلیف بڑھ رہی تھی۔ بچوں اور خواتین کی حالت بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی تھی۔ امام حسینؑ کے قافلے کو ذہنی اور جسمانی طور پر دباؤ میں رکھا جا رہا تھا۔
مذاکرات کی کوششیں
امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان بات چیت کے کچھ دروازے کھلے رہے۔ امام حسینؑ چاہتے تھے کہ معاملہ جنگ تک نہ پہنچے اور امن کی کوئی صورت نکل آئے، لیکن یزیدی حکومت کے سخت احکامات کی وجہ سے معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
. یزیدی فوج کی تیاری
6 محرم کے دن یزیدی لشکر نے جنگی تیاری مزید تیز کر دی۔ خیموں کے گرد گھوڑسوار اور پیادہ دستے تعینات کیے گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ مزاحمت کو روکا جا سکے۔
. امام حسینؑ کے اصحاب کا عزم
اس سخت صورتحال میں امام حسینؑ کے ساتھی مکمل ثابت قدم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ حالات مشکل ہیں لیکن ان کا ایمان اور وفاداری مضبوط تھی۔
ماحول کی سنگینی
کربلا کا ماحول اس دن انتہائی غمگین اور کشیدہ ہو چکا تھا۔ ہر لمحہ یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ اب فیصلہ کن وقت قریب آ رہا ہے۔